Saturday, June 14, 2025

اقامتِ دین پر مولانا مودودی اور جاوید غامدی کے افکار کا قرآن، سنت اور چودہ سو سالہ اسلامی روایت کی روشنی میں جائزہ

اقامتِ دین پر مولانا مودودی اور جاوید غامدی
اقامتِ دین پر مولانا مودودی اور جاوید غامدی 

اقامتِ دین: ایک عمیق اور فیصلہ کن تجزیہ

مولانا مودودی اور جاوید غامدی کے افکار کا قرآن، سنت اور چودہ سو سالہ اسلامی روایت کی روشنی میں جائزہ

پہلا فریق: مولانا مودودی کا تصورِ "حکومتِ الٰہیہ" اور دین کا جامع نظریہ

مولانا مودودی کے فکر کا نقطہ آغاز دین کی وہ جامع تعریف ہے جو اسے محض ایک "مذہب" (Religion) سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کے نزدیک دین ایک مکمل نظامِ حیات (A Complete Way of Life) ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو—سیاست، معیشت، معاشرت، قانون، عدالت—سب پر محیط ہے۔ اس جامعیت کی بنیاد توحید کا انقلابی تصور ہے: حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔

"جس طرح ایک پوری مشین اس وقت تک ٹھیک نہیں چل سکتی جب تک اس کے تمام پرزے ٹھیک نہ ہوں اور اپنی اپنی جگہ ٹھیک کام نہ کر رہے ہوں، اسی طرح انسانی زندگی کا پورا نظام بھی اس وقت تک صحیح اور صالح نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے تمام شعبوں میں خدا کے قانون کی پیروی نہ کی جائے۔ اسی پیروی کا نام اسلام ہے اور اسی کے قائم کرنے کی کوشش کا نام اقامت دین ہے۔" - خلاصہ از "دینیات"

مرکزی دلائل:

  • لفظ "دین" کا قرآنی مفہوم: مولانا کے مطابق، قرآن میں لفظ "دین" صرف عبادت کے معنی میں نہیں، بلکہ "نظامِ اطاعت، قانون، اور حاکمیت" کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے (جیسے سورۃ یوسف: 76 میں "دین الملک" یعنی بادشاہ کا قانون)۔
  • اقامتِ دین کا حکم: سورۃ الشوریٰ کی آیت 13 ﴿أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾ میں "اقامت" کا لفظ محض عمل کرنے نہیں، بلکہ "کھڑا کرنے، قائم کرنے اور نافذ کرنے" کا مطالبہ کرتا ہے، جیسے "اقامتِ صلوٰۃ" کا مطلب نماز کا اجتماعی نظام قائم کرنا ہے۔
  • بعثتِ انبیاء کا مقصد: تمام انبیاء بالعموم، اور نبی اکرم ﷺ بالخصوص، اسی مقصد کے لیے بھیجے گئے کہ اللہ کے دین کو تمام باطل نظاموں پر غالب کریں ﴿لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ﴾۔ یہ کوئی وقتی مقصد نہ تھا بلکہ دینِ اسلام کی فطرت کا دائمی تقاضا ہے۔

پس، مولانا مودودی کے نزدیک، اقامتِ دین کی جدوجہد دراصل ایک صالح، عادلانہ اور ہمہ گیر اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد ہے، کیونکہ دین کے اجتماعی احکام (حدود، قصاص، زکوٰۃ کا نظام، معاشی عدل) ریاستی قوت کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتے۔

دوسرا فریق: جاوید احمد غامدی کا تصورِ "سنتِ الٰہی" اور دین کا انفرادی مرکز

جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر کا محور دین کا انفرادی پہلو ہے، یعنی فرد کا اپنے خالق کے ساتھ تعلق، تزکیہ نفس، اور آخرت کی جواب دہی۔ ان کے نزدیک، دین کا اصل ہدف فرد کی اصلاح ہے، نہ کہ ریاست کا قیام۔ اجتماعی معاملات دین کا براہِ راست موضوع نہیں ہیں، بلکہ ان کا تعلق انسان کی اجتماعی دانش اور اخلاقیات سے ہے۔

"اِس (آیت) کا منشا یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر دین قائم کرنے کی کوشش کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ دین جس طرح اُنھیں ملا ہے، اُسی طرح بغیر کسی تفرقے کے اُس پر قائم رہیں۔۔۔ جہاں تک ریاست کا تعلق ہے، اُس کا موضوع اصلاً دین نہیں، بلکہ انسان کے اجتماعی معاملات ہیں۔" - جاوید احمد غامدی، "میزان"، باب اصول و مبادی

مرکزی دلائل:

  • سنتِ اتمامِ حجت: غامدی صاحب کا کلیدی استدلال یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ریاست قائم کرنا اور دین کو غالب کرنا ایک استثنائی خدائی قانون کے تحت تھا جسے "سنتِ اتمامِ حجت" کہتے ہیں۔ یہ سنت صرف رسولوں کے ساتھ خاص ہے، جس کے تحت رسول کے منکرین پر دنیا میں ہی عذاب آتا ہے اور ماننے والوں کو غلبہ عطا ہوتا ہے۔ چونکہ اب کوئی رسول نہیں آئے گا، لہٰذا یہ سنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔
  • قانون کی تقسیم: وہ دین کے احکام کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: ایک وہ جن کا تعلق فرد سے ہے (نماز، روزہ) اور دوسرے وہ جن کا تعلق ریاست سے ہے (حدود، جہاد)۔ عوام صرف پہلی قسم کے مکلف ہیں۔ دوسری قسم کے احکام کے مخاطب صرف حکمران ہیں اور ان کا نفاذ بھی ان کے اطمینان پر منحصر ہے۔ عوام کا کام حکومت قائم کرنا نہیں، بلکہ صرف وعظ و نصیحت ہے۔
  • ریاست کا کردار: ان کے نزدیک ریاست کا کام دین نافذ کرنا نہیں، بلکہ عدل و انصاف (Justice) قائم کرنا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ اگر مسلمان حکمران چاہیں تو وہ شریعت کے اصولوں سے رہنمائی لے سکتے ہیں، لیکن دین کے نام پر کوئی نظام مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

غیر جانبدار اور تفصیلی تجزیہ: تاریخ، اصول اور نتائج کی روشنی میں

پوائنٹ 1: قرآن کی اصطلاحات اور عمومی احکام کی تعبیر

تفصیلی بحث: یہ اس اختلاف کا بنیادی نکتہ ہے۔ مولانا مودودی "عمومِ لفظ" کے کلاسیکی اصول پر قائم ہیں کہ قرآن کے احکام آفاقی ہیں جب تک کہ خود قرآن انہیں کسی خاص گروہ یا زمانے تک محدود نہ کر دے۔ مثلاً، ﴿أَقِيمُوا الدِّينَ﴾ کا حکم تمام انبیاء اور ان کی امتوں کو دیا گیا، جو اس کے عمومی اور دائمی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

اس کے برعکس، غامدی صاحب "تخصیص" کا اصول کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ وہ غلبہ دین کی آیات، جہاد و قتال کے احکامات، اور حتیٰ کہ "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کی اجتماعی تعبیر کو بھی "سنتِ رسول" کے مخصوص تناظر سے جوڑ کر ان کی عمومی حیثیت کی نفی کر دیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تخصیص کی بنیاد کیا ہے؟ قرآن میں کوئی ایسی آیت نہیں جو کہتی ہو کہ "غلبہ دین کا قانون رسولوں کے بعد ختم ہو جائے گا۔" یہ تخصیص ایک اجتہادی استنباط (Inference) ہے، قرآن کی صریح نص نہیں۔

مثال: سورۃ الحدید کی آیت 25 میں فرمایا: ﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ...﴾ (ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں شدید طاقت ہے...)۔ اس آیت میں "لوگوں کا انصاف پر قائم ہونا" (لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ) ایک عمومی مقصد بیان کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ "لوہے" (طاقت و ریاست) کا ذکر اس مقصد کے حصول کا ذریعہ بتاتا ہے۔ اسے صرف رسولوں تک محدود کرنا آیت کے عمومی پیغام کو سکیڑنے کے مترادف ہے۔

مولانا مودودی کا مؤقف اصولِ تفسیر کے مسلمہ قاعدے "العبرة بعموم اللفظ" سے زیادہ قریب ہے، جبکہ غامدی صاحب کا مؤقف تخصیص پر مبنی ہے جس کی واضح دلیل قرآن میں موجود نہیں۔

پوائنٹ 2: سیرتِ نبوی اور خلافتِ راشدہ کا تسلسل

تفصیلی بحث: غامدی صاحب کا ماڈل سیرتِ نبوی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے: مکی دور (قابلِ تقلید) اور مدنی دور (ناقابلِ تقلید استثناء)۔ یہ تقسیم انتہائی خطرناک نتائج کی حامل ہے۔ اگر مدنی دور اور ریاست کا قیام رسول کے ساتھ خاص تھا، تو خلفائے راشدینؓ کا پورا دور کیا تھا؟

  • حضرت ابوبکر صدیقؓ کا قتال: جب انہوں نے مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تو حضرت عمرؓ نے ابتداً تردد کیا اور کہا کہ آپ کلمہ گو لوگوں سے کیسے جنگ کر سکتے ہیں؟ حضرت ابوبکرؓ کا تاریخی جواب تھا: "خدا کی قسم، جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا، میں اس سے ضرور لڑوں گا۔ اگر وہ مجھے ایک رسی دینے سے بھی انکار کریں جو وہ رسول اللہﷺ کو دیتے تھے، تو میں اس پر بھی ان سے قتال کروں گا۔" یہ جواب اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ ریاستِ مدینہ کو نبیﷺ کی قائم کردہ ایک دائمی سنت اور دین کے اجتماعی نظام کا تسلسل سمجھ رہے تھے، نہ کہ کوئی وقتی معجزہ۔
  • حضرت عمر فاروقؓ کی ادارہ سازی: انہوں نے جس پیمانے پر ریاست کو منظم کیا—فوج، پولیس، عدلیہ، بیت المال، زمین کا انتظام—وہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اسلام کو ایک مکمل ریاستی نظریہ (State Ideology) کے طور پر نافذ کر رہے تھے۔

غامدی صاحب کا ماڈل اختیار کرنے سے خلافتِ راشدہ، جسے خود نبی اکرم ﷺ نے "سنت" قرار دیا (علیکم بسنتی و سنة الخلفاء الراشدین)، کی عملی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ مولانا مودودی کا نظریہ اس کے برعکس، خلافتِ راشدہ کو سیرتِ نبوی کے مدنی دور کا فطری اور منطقی تسلسل قرار دیتا ہے، جو تاریخی طور پر زیادہ درست ہے۔

خلافتِ راشدہ کا طرزِ عمل مولانا مودودی کے جامع تصور کی قطعی اور فیصلہ کن تائید کرتا ہے اور غامدی صاحب کے ماڈل کو عملی طور پر مسترد کر دیتا ہے۔

پوائنٹ 3: چودہ سو سالہ علمی و فکری ورثہ

تفصیلی بحث: اسلامی تاریخ میں دین اور ریاست کے تعلق پر تین بڑے نظریات رہے ہیں: (۱) دین اور ریاست ایک ہیں (کلاسیکی سنی نظریہ)، (۲) ریاست دین کے تابع ہے (اکثر صوفیاء اور علماء کا نظریہ)، (۳) دین اور ریاست جدا ہیں (معتزلہ کے بعض گروہ اور جدید سیکولر مفکرین)۔

مولانا مودودی کا نظریہ پہلی اور دوسری قسم کے نظریات کا جدید احیاء ہے۔ امام غزالیؒ ("الدین اس والسلطان حارس" - دین بنیاد ہے اور سلطنت محافظ)، ابن خلدون (خلافت کا مقصد دین کی حفاظت اور دنیا کا انتظام ہے)، شاہ ولی اللہؒ (ارتفاقات کا نظریہ جس میں ریاست اعلیٰ ترین اجتماعی ادارہ ہے) اور مجدد الف ثانیؒ (اکبر کے الحاد کے خلاف سیاسی مزاحمت)، یہ سب اسی تسلسل کی کڑیاں ہیں۔

اس کے برعکس، غامدی صاحب کا نظریہ کہ "ریاست کا موضوع دین نہیں" اور "اقامتِ دین کے لیے جدوجہد بدعت ہے"، اسلامی تاریخ میں ایک بالکل نیا اور اجنبی نظریہ ہے۔ یہ چودہ سو سالہ علمی ورثے سے مکمل انحراف ہے۔ کسی بھی مستند فقیہ، مفسر یا مجدد نے یہ نہیں کہا کہ شریعت کے اجتماعی قوانین کا نفاذ اب امت کی ذمہ داری نہیں رہا۔ فقہ کی تمام کتابیں "کتاب السیر"، "کتاب الامارۃ" اور "کتاب الحدود" سے بھری پڑی ہیں جو ایک فعال اسلامی ریاست کو فرض کرتی ہیں۔

مولانا مودودی کا نظریہ اسلامی فکر کے مرکزی دھارے کا تسلسل ہے، جبکہ غامدی صاحب کا نظریہ اس روایت سے ایک بنیادی انقطاع (Break) ہے۔

پوائنٹ 4: عملی نتائج اور قابلِ عمل ہونا (Practical Implications)

تفصیلی بحث: کسی بھی نظریے کو اس کے عملی نتائج سے بھی پرکھا جاتا ہے۔

  • غامدی صاحب کے نظریے کا نتیجہ: ان کا ماڈل مسلمانوں کو اجتماعی طور پر غیر سیاسی (Apolitical) اور لاتعلق (Passive) بنا دیتا ہے۔ یہ عملاً سیکولرزم کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے، جہاں دین فرد کا نجی معاملہ بن جاتا ہے اور اجتماعی زندگی لادین اصولوں پر چلتی ہے۔ اگر مسلمان اپنے دین کے اجتماعی نفاذ کے لیے کوشش ہی نہیں کریں گے تو کیا وہ ہمیشہ لادین یا غیر اسلامی نظاموں کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے؟ یہ نظریہ امت کو ایک دفاعی اور معذرت خواہانہ پوزیشن پر لاکھڑا کرتا ہے۔
  • مولانا مودودی کے نظریے کا نتیجہ: ان کا ماڈل مسلمانوں کو ایک فعال، باشعور اور ذمہ دار امت بناتا ہے جو اپنے معاشرے کی اصلاح اور ایک عادلانہ نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ اس نظریے میں قوت بھی ہے اور خطرہ بھی۔ قوت یہ ہے کہ یہ امت کو جمود سے نکالتا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ اگر اس کی درست تفہیم نہ کی جائے تو یہ شدت پسندی اور خوارج جیسی فکر کو جنم دے سکتا ہے (جیسا کہ بعض گروہوں نے کیا)۔ مولانا مودودی خود ہمیشہ پُرامن، جمہوری اور دستوری جدوجہد کے قائل رہے، لیکن ان کے نظریے کی غلط تشریح کا امکان موجود رہتا ہے۔
عملی طور پر، مولانا مودودی کا نظریہ اسلام کے انقلابی مزاج کی عکاسی کرتا ہے مگر اس میں شدت پسندی کا خطرہ موجود ہے۔ غامدی صاحب کا نظریہ محفوظ ہے مگر یہ امت کو اجتماعی جمود اور لادین نظاموں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔

حتمی اور فیصلہ کن خلاصہ

اس تفصیلی تجزیے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا تصورِ اقامتِ دین، اپنی تمام تر تنقیدات کے باوجود، قرآن کی عمومی تعلیمات، سیرتِ نبوی کے جامع نمونے، خلافتِ راشدہ کے عملی تسلسل اور امت کے چودہ سو سالہ علمی ورثے سے گہری مطابقت رکھتا ہے۔ یہ اسلام کو ایک مکمل، فعال اور غالب نظامِ حیات کے طور پر پیش کرتا ہے، جو اس کی اصل روح ہے۔

اس کے مقابلے میں جاوید احمد غامدی کا نظریہ، اگرچہ فرد کی اخلاقی اصلاح اور دلیل کی اہمیت جیسے قابلِ قدر پہلوؤں پر مشتمل ہے، لیکن اپنی بنیاد میں وہ ایک ایسا "نیا اسلام" پیش کرتا ہے جو تاریخ سے کٹا ہوا اور قرآن کی آیات کی ایسی تخصیص پر مبنی ہے جس کی کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں۔ ان کا ماڈل اسلام کے اجتماعی اور ریاستی کردار کی مکمل نفی کر کے اسے ایک پرائیویٹ معاملہ بنا دیتا ہے، جو نہ صرف غیر حقیقی ہے بلکہ امت کو اس کی اجتماعی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کی دعوت دیتا ہے۔

لہٰذا، فیصلہ یہ ہے کہ "اقامتِ دین" ایک جامع اور اجتماعی فریضہ ہے جس کا منطقی تقاضا ایک صالح ریاست کا قیام ہے۔ اس معاملے میں مولانا مودودی کا مؤقف ہی راجح، مدلل اور اسلامی روایت کے مطابق ہے۔

Friday, June 13, 2025

جاوید احمد غامدی سنت اور حدیث: ایک بنیادی اختلاف

جاوید احمد غامدی کے نظریات
جاوید احمد غامدی کے نظریات

سنت اور حدیث: ایک بنیادی اختلاف

جاوید احمد غامدی کے نظریات اور جمہورِ امت کے متفقہ مؤقف کا گہرا تقابلی جائزہ

اسلام کے بنیادی مآخذ قرآن کے بعد "سنت" اور "حدیث" ہیں۔ ان دونوں کی تعریف، حجیت (Authority)، اور باہمی تعلق پر ہی اسلامی علوم کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ پچھلے چودہ سو سال سے جمہور امت (اہلِ سنت والجماعت) کا اس پر ایک متفقہ اور واضح مؤقف رہا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے اس میدان میں ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے جو کئی پہلوؤں سے جمہور کے مؤقف سے نہ صرف مختلف ہے بلکہ متصادم بھی ہے۔ آئیے اس اختلاف کی گہرائی کو سمجھتے ہیں۔

بنیادی اصطلاحات کا موازنہ

"سنت" کی تعریف

جمہور امت کا مؤقف

نبی ﷺ کا قول، فعل اور تقریر (منظوری)۔ ہر وہ چیز جو نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہو، خواہ وہ آپ کا فرمان ہو، کوئی عمل ہو، یا کسی صحابی کو کوئی کام کرتے دیکھ کر آپ کا خاموش رہنا۔

جاوید احمد غامدی کا مؤقف

دینِ ابراہیمی کی تجدید شدہ عملی روایت۔ سنت وہ دین ہے جو نبی ﷺ نے دینِ ابراہیمی کی حیثیت سے جاری کیا۔ یہ صرف 27 اعمال پر مشتمل ہے۔ نبی ﷺ کے اقوال و افعال سنت نہیں ہیں۔

"حدیث" کی تعریف

جمہور امت کا مؤقف

سنت کا ریکارڈ/روایت۔ حدیث وہ ذریعہ ہے جس سے ہمیں نبی ﷺ کی سنت کا علم ہوتا ہے۔ یہ نبی ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات کی روایت ہے جو سند کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے۔

جاوید احمد غامدی کا مؤقف

سنت کے علم کا ذریعہ نہیں۔ حدیث نبی ﷺ کی سیرت، تاریخ اور آپ کے اقوال و افعال کا ایک ریکارڈ ہے۔ اس کی حیثیت تاریخی روایت کی سی ہے، یہ براہِ راست دین کا مأخذ نہیں۔

سنت کا ذریعہ ثبوت

جمہور امت کا مؤقف

صحیح السند حدیث۔ کوئی بھی عمل سنت اس وقت ثابت ہوتا ہے جب وہ محدثین کے اصولوں پر پرکھی ہوئی ایک صحیح سند والی حدیث سے ثابت ہو جائے۔ خواہ وہ خبرِ واحد ہو یا متواتر۔

جاوید احمد غامدی کا مؤقف

اجماع اور عملی تواتر۔ سنت صرف اور صرف امت کے اجماع اور عملی تواتر سے ثابت ہوتی ہے، یعنی وہ اعمال جو نسل در نسل کروڑوں مسلمان کرتے چلے آ رہے ہیں۔

دین میں حجت (Authority)

جمہور امت کا مؤقف

قرآن اور صحیح حدیث۔ قرآن کے بعد صحیح حدیث (خبرِ واحد بھی) دین میں حجت ہے اور عقائد و اعمال کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ﴾ کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو حدیث سے ثابت ہو۔

جاوید احمد غامدی کا مؤقف

قرآن اور متواتر سنت۔ دین میں حجت صرف دو چیزیں ہیں: قرآن اور وہ سنت جو عملی تواتر سے ثابت ہے۔ خبرِ واحد (اکثر احادیث) سے نہ کوئی عقیدہ ثابت ہوتا ہے اور نہ دین میں کسی حکم کا اضافہ ہوتا ہے۔

 دین کے مآخذ کا تصور

جمہور امت کا تصورِ دین

📜قرآن مجید (کلام اللہ)
💬حدیثِ رسول (صحیح السند)
⬇️

نتیجہ: مکمل دین

دین کے تمام عقائد، عبادات اور احکامات ان دونوں مآخذ سے ثابت ہوتے ہیں۔ حدیث، سنت کی تفصیل اور تشریح ہے۔

جاوید غامدی کا تصورِ دین

📜قرآن مجید (کلام اللہ)
🔄متواتر سنت (27 اعمال)
⬇️

نتیجہ: اصل دین

دین صرف قرآن اور متواتر سنت پر مشتمل ہے۔ حدیث اس دین کی تاریخ اور نبی کی سیرت کا ریکارڈ ہے، دین کا حصہ نہیں۔

غامدی صاحب نے کون سی نئی بات کہی ہے؟ (فکری انحراف کے کلیدی نکات)

۱۔ سنت اور حدیث کی مکمل علیحدگی

تفصیلی جائزہ: جمہور امت کے نزدیک سنت اور حدیث لازم و ملزوم ہیں۔ سنت "مقصد" ہے اور حدیث اس تک پہنچنے کا "ذریعہ"۔ غامدی صاحب نے ان دونوں کے درمیان ایک ناقابلِ عبور دیوار کھڑی کر دی ہے۔

غامدی فکر کا خلاصہ: "سنت وہ دین ہے جو اجماع اور تواتر سے ملا ہے، جبکہ حدیث اس دین کی تاریخ ہے۔ دین اور تاریخِ دین دو الگ الگ چیزیں ہیں۔"

نتیجہ: اس تقسیم سے حدیث کی دینی حیثیت اور حجیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ محض ایک تاریخی دستاویز بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ انکارِ حدیث کا "جدید اور نرم انداز" ہے، کیونکہ نتیجہ ایک ہی ہے: احادیث کے ایک بڑے ذخیرے کو دین کا ماخذ ماننے سے انکار۔

۲۔ خبرِ واحد کی حجیت کا انکار

تفصیلی جائزہ: "خبرِ واحد" وہ حدیث ہے جسے ہر دور میں بہت زیادہ لوگوں نے روایت نہ کیا ہو۔ احادیث کا 95 فیصد سے زائد ذخیرہ خبرِ واحد پر مشتمل ہے۔ جمہور امت کا متفقہ مؤقف ہے کہ اگر خبرِ واحد سند کے اعتبار سے صحیح ہو تو وہ حجت ہے۔

جمہور کا مؤقف: امام شافعیؒ اپنی کتاب "الرسالہ" میں خبرِ واحد کی حجیت پر تفصیلی دلائل دیتے ہیں اور اسے امت کا اجماعی مؤقف قرار دیتے ہیں۔

غامدی صاحب خبرِ واحد کو دین میں حجت ہی نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک اس سے صرف "ظن" (گمان) پیدا ہوتا ہے، "علم" نہیں۔ اس ایک اصول کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ تمام احکام جو صرف خبرِ واحد سے ثابت ہیں (مثلاً نماز کی بہت سی تفصیلات، زکوٰۃ کے نصاب وغیرہ)، ان کی دینی حیثیت ان کے نزدیک مشکوک ہو جاتی ہے۔

۳۔ "سنت" کو 27 اعمال تک محدود کرنا

تفصیلی جائزہ: جمہور کے نزدیک سنت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ نبی ﷺ کی ہر بات، ہر عمل، ہر فیصلہ سنت ہے۔ غامدی صاحب نے سنت کو صرف 27 مخصوص عبادتی اور معاشرتی رسوم تک محدود کر دیا ہے۔ یہ ایک خود ساختہ فہرست ہے جس کی قرآن یا حدیث میں کوئی دلیل موجود نہیں۔ مثلاً، داڑھی رکھنا غامدی صاحب کے نزدیک سنت نہیں ہے کیونکہ یہ ان کی 27 اعمال کی فہرست میں شامل نہیں، جبکہ جمہور امت کے نزدیک یہ نبی ﷺ کا دائمی عمل اور حکم ہونے کی وجہ سے سنت ہے۔

حتمی خلاصہ اور نتیجہ

جاوید احمد غامدی صاحب کا نظریہ "سنت" اور "حدیث"، اگرچہ علمی اصطلاحات میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اپنی اساس میں یہ جمہور امت کے 1400 سالہ متفقہ مؤقف سے ایک بنیادی اور خطرناک انحراف ہے۔

ان کی فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ حدیث کے پورے ذخیرے کو دین کا براہِ راست ماخذ ماننے سے انکار کر کے اس کی حیثیت کو محض ایک تاریخی ریکارڈ تک گرا دیتے ہیں، اور "سنت" کے نام پر صرف چند گنے چنے اعمال کو دین قرار دیتے ہیں۔ یہ طریقہ کار دین کے ایک بہت بڑے حصے پر عدم اعتماد پیدا کرتا ہے اور شریعت کی بنیادوں کو متزلزل کر دیتا ہے۔

اس کے برعکس، جمہور امت کا مؤقف قرآن، سنت اور عقلِ سلیم کے مطابق ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے۔ آپ کا ہر قول و فعل جو صحیح سند سے ثابت ہو، ہمارے لیے دین اور حجت ہے۔ حدیث سنت کا علم حاصل کرنے کا سب سے مستند اور معتبر ذریعہ ہے۔ ان دونوں میں تفریق پیدا کرنا درحقیقت دین کی عمارت کو اس کی بنیادوں سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔